Sadr Anjuman Ahmadiyya Pakistan

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز

چناب نگرربوہ ( پ ر)جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین نے گذشتہ روزجماعت احمدیہ کے خلاف2013کے دوران ہونے والے ظلم و ستم پر مبنی سالانہ رپورٹ پریس کوجاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس سا ل احمدیوں کے خلاف جاری نفرت و تشدد کی لہر میں نمایاں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس سال 7احمدیوں کو محض عقیدہ کی بنیاد پر قتل کیا گیا جس میں کراچی میں ایک ہی خاندان کے تین افراد یکے بعد دیگرے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے گئے۔وہ سلسلہ جو جماعت احمدیہ پرمظالم اور ایذا رسانی کا طویل عرصے سے جاری ہے اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے۔ جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معاندین کے ہاتھوں میں مسلسل کھیل رہے ہیں۔احمدیوں کی عبادتگاہوں کی بے حرمتی کا معاملہ ہویا قبروں کی پامالی کا،کسی ایک موقع پر بھی انتظامیہ نے قانون کے مطابق اصولی کارروائی کرنے کی بجائے انتہاپسندوں کے سامنے جھک جانے میں ہی عافیت سمجھی جو پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے مقابلے میں ریاست کی کمزوری کی نشاندہی کر تی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ احمدیوں کے حوالے سے کی گئی امتیازی قانون سازی کو آڑ بنا کرحکومت نے انتہا پسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1984کے امتیازی قوانین بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہیں اور آئین پاکستان نیز قائداعظمؒ کے تصور پاکستان کی روح کے منافی ہیں ،لہذا ان قوانین کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور لاکھوں پاکستانی احمدیوں کے انسانی حقوق بحال کئے جائیں جو بحیثت پاکستانی ان کا حق ہے۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان کے مطابق 1984ء کے بد نام زمانہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے جاری ہونے کے بعد سے اب تک احمدیوں کو سیاسی،سماجی اور قانونی طور پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے جو ایک معاشرے کے افراد کے یکساں اور مساوی بنیادی حق کی نفی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان ا متیازی قوانین کے جاری ہونے کے بعد سے 31 دسمبر 2013 تک237 احمدی عقیدہ کے اختلاف پر قتل کئے جا چکے ہیں۔ جبکہ 193احمدیوں پر قاتلانہ حملے کئے گئے27 عبادت گاہوں کومسمارکیا گیا جبکہ 31کو انتظامیہ نے سیل کر دیا ۔16 عبادت گاہوں پرمخالفین نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا۔37 افراد کی تدفین کے بعد قبر کھود ڈالی گئی اور 61 احمدیوں کی مشترکہ قبرستان میں تدفین نہیں ہونے دی گئی۔

 ترجمان نے کہا کہ احمدیوں کی زندگیاں تو پہلے بھی محفوظ نہیں تھیں اب دنیا سے گزرنے والے احمدی بھی معاندین اور انتظامیہ کی مشق ستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ سال2013کے دوران بھی معاندین نے پولیس کو استعمال کرتے ہوئے احمدیوں کی عبادت گاہوں پر سے کلمہ طیبہ شہید کرایا۔ جبکہ بعض احمدیوں کے گھروں میں جا کر وہاں سے قرانی آیات کو اتار ا گیا۔ اسی طرح مخالفین کو خوش کرنے کے لئے متعدد ایسی غیر قانونی کارروائیاں کی جو سراسر اختیارات سے تجاوز اورتوہین آمیز تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر قابو پانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے جبکہ یوں محسوس ہو تا ہے کہ پولیس کے پاس سوائے احمدیوں کو ہراساں کر کے غیر قانونی اقدامات کرنے کے سوا کوئی کام ہی نہیں ۔ملک میں عموماً اور پنجاب اور سندھ میں خصوصاًایسا شر انگیز لٹریچر کھلے عام شائع کر کے تقسیم کیا جارہا ہے جس میں احمدیوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ سے لے کر قتل تک کی ترغیب دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں متعدد ناخوشگوار واقعات رونما ہو چکے ہیں۔۔ سرکاری انتظامیہ کی اس ضمن میں معنی خیز خاموشی کا حکومتی سرپرستی کے سوا کیا مطلب ہے؟؟؟ ترجمان نے کہا کہ 2013میں بھی احمدیوں کی مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق کو حسب سابق پامال کیا جا تا رہا۔راولپنڈی میں احمدیوں کو عید کی نماز کی ادائیگی سے بھی روک دیا گیا ۔اسی طرح ملک کے دیگر حصو ں میں بھی احمدیوں کی عبادت گاہیں مخالفین کا نشانہ بنی رہیں۔ترجمان نے کہا کہ حکومت جو بظاہر آزادی اظہار کا پرچار کرتی ہے ،نے بلاجواز احمدیہ مطبوعات کے ڈیکلریشن کے خلاف قانونی کارروائی کی اور رسالہ مصباح اور پاکستان کے قدیم ترین اردو اخبارروزنامہ الفضل کی اشاعت میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ جو خالصتاً احمدی افراد کے لئے شائع ہوتے ہیں۔ ترجمان جماعت احمدیہ کے مطابق سال 2013کے دوران بھی ربوہ میں جہاں 95%احمدی آباد ہیں احمدیوں کو کسی قسم کے مذہبی اجتماع یا جلسہ کی اجازت نہ دی گئی۔ یہاں تک کہ احمدیوں کو کھیلوں کے پروگرام کھلے عام منعقد کرنے کی آزادی نہیں۔جب کہ معاندین کو کھلے عام اجازت دی گئی کہ وہ ربوہ سے باہر کے افراد کو ربوہ میں جمع کر کے جب چاہیں ,جہاں چاہیں ,جلسہ کریں اور ربوہ میں جلوس نکالیں چنانچہ احمدی مخالف تنظیموں نے ربوہ میں آکر جلسے کئے جن میں احمدی اکابرین کو غلیظ گالیاں دی گئیں اور حاضرین کو اکسایا کہ وہ احمدیوں کو قتل کریں۔ایسے عناصر کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ترجمان جماعت احمدیہ نے تعلیمی میدان میں احمدیوں کے ساتھ کی جانے والے نا انصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ70کی دہائی میں حکومت وقت نے تعلیمی ادارے بھی قومیالئے تھے جن میں جماعت احمدیہ کے تعلیمی ادارے بھی شامل تھے۔ ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی کے نفاذکے بعد جماعت نے سرکاری قوائد و ضوابط کے مطابق خطیر رقم سرکاری خزانے میں اپنے تعلیمی اداروں کی واپسی کے لئے جمع کرائی۔مگرحکومت نے آج تک جماعت احمدیہ کے تعلیمی ادارے واپس نہیں کئے جبکہ اسی پالیسی کے تحت متعدد تعلیمی ادارے ان کے اصل مالکان کو واپس ہو چکے ہیں ۔عقیدے کے اختلاف کو بنیاد بنا کر صرف احمدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کب تک جاری رہے گا؟؟؟ ترجمان نے کہا کہ آج فرقہ واریت ،قتل و غارت گری اور انتشار اپنے عروج پر ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بھیانک صورتحال کے نکتہ آغاذپر غور کیا جائے،جب ریاست نے مذہب میں مداخلت کی ا ور امتیازی قوانین بنائے۔ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں امن وا مان کی بگڑتی صورتحال مذہبی معاملات میں ریاست کی مداخلت کا شاخسانہ ہے۔ آج حالات میں بہتری لانے کے لئے لازم ہے کہ ایسے امتیازی قوانین کو کالعدم قرار دیا جائے جن کے نفاذ نے پاکستان کا تشخص تباہ کر دیا ہے ۔ ترجمان جماعت احمدیہ نے پاکستان کے انصاف پسند حلقوں سے کہا ہے کہ وہ حکومت پر زوردیں کہ وہ مذہبی تعصبات کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کرے تاکہ وطن میں فرقہ واریت اور تعصب کا خاتمہ ہوسکے اور ہمارا پیار ا پاکستان حقیقی ترقی اور امنوسلامتیکی راہوں پر گامزن ہوسکے ۔###

Press Release annual report 2013

Press Release about Annual report of Persecution of Ahmadis in Pakistan in 2013

Posted in Press | No Comments

بسم اللہ الرحمن الرحیم

Press Release

2013: Saw further deterioration of the Human Rights of Ahmadis in Pakistan

Seven Ahmadies killed and 16 further murders attempted for nothing more than religious differences

Ahmadies deprived of the vote on account of discriminative election lists

Due to pressure from extremists, Ahmadis prosecuted under discriminative laws

Provocative literature, promoting the social and financial boycott as well as the murder of Ahmadis, widely distributed. Government silence suggest official patronage of these heinous acts

Neither mosques nor the cemeteries are free from the oppression of so called ulema and the representatives of government

According to the governments policy regarding privatization, Ahmadiyya Jamaat has failed to retrieve its nationalized educational institutes. How long will the government impinge on the rights of Ahmadies from fear of opposition parties

During 2013, an increase in fabricated news stories published in the Urdu press. More than 1700 news reports and more than 394 articles appeared during the year depicting Ahmadis in a negative light

Basic human rights of Ahmadis should be reinstated immediately and discriminative laws against them should be eradicated

Chenab Nagar Rabwah (pr) Spokesman of Ahmadiyya Jamaat in Pakistan, Mr Saleem Ud Din, issued the annual report of persecution of the Ahmadiyya Jamaat for the year 2013. He said that the hatred and persecution against Ahmadis increased in the past year. Seven Ahmadis including three from the same family in Karachi, were killed sequentially merely on account of religious differences. Acts of persecution against the Ahmadiyya Jamaat are at their peak while the law enforcement agencies pander to the whims of the aggressors. Whether it is the desecration of Ahmadiyya mosques or the devastation of graves, the authorities align themselves with extremists rather than enact the law.

Saleemuddin said that the government has close dealings with extremists under the cover of discriminative legislation against the Ahmadiyya Jamaat. He said that the discriminative laws of 1984 go against the fundamental principles of human rights, the law of Pakistan and the philosophy of the nation presented by Quaid e Azam. These laws should be dissolved and the human rights of Ahmadis ought to be upheld. According to the spokesman, Ahmadies have faced political, social and legal discrimination since he promulgation of the notorious ordinance of 1984 which is contrary to the basic and equal rights of citizenship. He said that 237 Ahmadis have been killed since the Ordinance was passed while 193 attempted murders have taken place.  27 mosques have been demolished, 31 have been sealed by the authorities and 16 others have been illegally appropriated.  37 bodies exhumed after burial while burial of  61 dead bodies of Ahmadis were denied in common cemetry. Not only are the lives of Ahmadis are under constant threat they are afforded no peace in death either.

He said that with the assistance of the police opponents continued to efface Kalimas from Ahmadiyya mosques while Quranic verses were also removed from some houses. Similarly, various illegal operations were conducted, which were beyond the jurisdiction of the authorities. He said that a curtailment of the lawlessness in the country should be the top priority of law enforcement agencies, yet sadly it seems that they would rather spend their time harassing Ahmadies. Provocative literature, promoting the social and financial boycott as well as the murder of Ahmadies, is being distributed widely in the country, especially in Punjab and Sindh. Government silence on these issues suggests that these heinous acts have official backing.

The Ahmadiyya spokesman said that the religious freedom and human rights of Ahmadies were constantly impinged on over the course of the year. Ahmadies were even prevented from offering Eid prayer in Rawalpindi. Likewise other Ahmadiyya mosques in the country were also targeted by opponents. The government of Pakistan which claims to uphold freedom of speech brought cases against Ahmadiyya publications such as Misbah and Alfazl – Pakistan’s oldest daily Urdu newspaper , exclusively meant for Ahmadis.

According to the spokesman, Ahmadis were not allowed to hold any religious gatherings, or sports event in Rabwah, where 95% of the population is Ahmadi. Whereas the opponents were free to hold gatherings consisting of participants from outside Rabwah. Numerous Anti-Ahmadiyya organizations held such conventions in which they used abusive language against distinguished Ahmadies and publicly incited people to murder Ahmadis. No action was taken against them by the authorities.

The spokesman referring to injustices against Ahmadis in the field of education said that in the 1970’s the government nationalized educational institutes including Ahmadiyya ones. After this a policy was implemented to reprivatize these institutes, the community submitted a significant payment to retake control of their schools and colleges. However this was not ratified by the government from fear of reprisal. How long will such discrimination continue for?

The spokesman said that today sectarianism, violence and disorder is at its peak.  It is necessary to figure out and understand that the current situation originates from the time when the government began to intrude in religious matters and enacted discriminative laws. It is time to eradicate all such legislation.

Those Pakistani’s who possess a sense of justice ought to insist that the government of Pakistan devise effective measures to eradicate sectarianism and bias so that our beloved Pakistan can tread the path of success and prosperity.###

 

 

ٹنڈہ الہہ یار میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا جھوٹا اور شر انگیز الزام لگا کر جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ پر حملہ قابل مذمت ہے۔

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
ٹنڈہ الہہ یار میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا جھوٹا اور شر انگیز الزام لگا کر جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ پر حملہ قابل مذمت ہے۔
کوئی احمدی قران پاک کی بے حرمتی کا تصور بھی نہیں کر سکتا:ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگر (ربوہ): جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے ٹنڈو الہہ یار میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا جھوٹا اور شر انگیز الزام لگا کر انتہاپسند عناصر کی احمدیہ عبادت گاہ میں زبر دستی گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی شر انگیز اور بے بنیاد الزام ہے ۔کوئی بھی احمدی قرآن پاک کی بے حرمتی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ہر احمدی کے لئے قرآن حکیم سب سے مقدس کتاب ہے جو پیارے نبی حضرت محمدﷺ پر نازل ہوئی ۔ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عز ت پائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ روز شر پسند عناصر نے احمدیہ عبادت گاہ پر پتھراؤ کیا جس پر طاہر احمد خالدنے ان کو اس کام سے منع کیا تو یہ لوگ منظم ہو کر احمدیہ عبادت گاہ پر حملہ آور ہو گئے اور زبردستی درواز ہ توڑ دیااورطاہر احمد خالد کو تشدد کانشانہ بنایا۔پولیس نے موقع پر پہنچ کر انہیں حفاظتی تحویل میں لے لیا۔جس پر شر پسند عناصر نے پولیس پر بھی پتھراؤ کیا۔بعد ازاں پولیس نے مذہبی انتہا پسندوں کے دباؤ میں آکر طاہر احمدخالد کے خلاف توہین قران کے بے بنیاد الزام کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کر لیا۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے اس واقعہ پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ا نتہائی افسوسناک ہے اور دن بدن انتہاپسندعناصر کی پاکستانی سماج پر مضبوط ہوئی گرفت کا آئینہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بالعموم اور سندھ میں بالخصوص ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں جن میں مذہبی انتہا پسند عناصر دیگر مسالک کی عبادت گاہوں کو ایک منصوبہ بندی کے ساتھ نشانہ بنا رہے ہیں انہوں نے اس ضمن میں لاڑکانہ میں ہندووں کے مندر کی توڑ پھوڑ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اب پاکستان میں انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں نہ تو مسلمان محفوظ ہیں اور نہ ہی غیر مسلم ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی منصفانہ تفتیش کی جائے اور ذمہ داران کو کڑی سزا دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طاہر احمد خالد کے خلاف بے بنیاد مقدمہ کو خارج کیا جائے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔ ###

فیصل آباد کے گاؤں 96گ ب تحصیل جڑانوالہ میں پولیس نے احمدیوں کی قبروں کے کتبوں سے کلمہ طیبہ شہید کر دیا

فیصل آباد کے گاؤں 96گ ب تحصیل جڑانوالہ میں پولیس نے احمدیوں کی قبروں کے کتبوں سے کلمہ طیبہ شہید کر دیا

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
فیصل آباد کے گاؤں 96گ ب تحصیل جڑانوالہ میں پولیس نے احمدیوں کی قبروں کے کتبوں سے کلمہ طیبہ شہید کر دیا
واقعہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شرف انسانیت کے خلاف ہے۔مذمت کرتے ہیں:ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگر (ربوہ): (پ ر) جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے پولیس کی جانب سے فیصل آ باد کے گاؤں 96گ ب تحصیل جڑانوالہ میں احمدیوں کی قبروں کے کتبوں سے کلمہ طیبہ شہید کرنے کو انتہائی قابل افسوس قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق 96گ ب تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد میں ایک معاند احمدیت نے پولیس کو درخواست دی تھی کہ گاؤں کے قبرستان میں احمدیوں کی قبروں کے کتبوں پر ایسے کلمات لکھے ہیں جن سے اس کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔اس پر مقامی پولیس نے جماعت احمدیہ کے نمائندوں کو تھانے بلا کر ان کتبوں پر تحریرکلمہ طیبہ خودمٹانے کے لئے دباؤ ڈالا تھا جس پر احمدیوں نے موقف اختیار کیا کہ ہم کسی صورت کلمہ طیبہ کو خود نہیں مٹائیں گے اور نہ کسی اور کو یہ مکروہ کام کرنے کی اجازت دیں گے۔احمدی تو کلمہ طیبہ لکھنے والے ہیں ہم ہر گزکلمہ نہیں مٹائیں گے۔احمدیوں کے اس موقف کے بعد9مارچ کو پولیس کے چند اہلکاروں نے قبرستان میں داخل ہوئے اور انہوں نے7قبروں سے کلمہ طیبہ شہید کردیا۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے اس افسوسناک واقعہ پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شرف انسانیت کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ سرکاری انتظامیہ جس کا کام معاشرے میں امن قائم کرنا اور تمام افراد سے یکساں سلوک کرنا ہے وہ مکمل طور پر اس وقت جماعت احمدیہ کے معاندین کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ۔جو کہ سراسر غیر قانونی اورغیراخلاقی حرکت ہے۔انہوں نے اس ضمن میں سپریم کورٹ کے 4نومبر1992کے حکم کا حوالہ دیا جس کے مطابق احمدی بسم اللہ اور اس جیسے دیگرکلمات استعمال کرنے کا قانونی حق رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ ان کی ذندگیوں میں تو امتیازی سلوک مسلسل جاری ہے لیکن دنیا سے گذر جانے کے بعد بھی اس ظالمانہ سلوک کو جاری رکھنے والے یہ عناصر مت بھولیں کہ انہیں ایک دن خدا کی عدالت میں حاضر ہونا ہے۔###

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز

کراچی میں احمدیوں کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ۔27سالہ رضی الدین اورنگی ٹاؤن میں قتل

کراچی میں ایک ہی علاقے میں معصوم احمدیوں کا قتل سوالیہ نشان ہے :ترجمان جماعت احمدیہ

چناب نگرربوہ(پ ر) گذشتہ روز8؍فروری 2014ء بروز ہفتہ دوپہر تقریباً 2:30بجے اورنگی ٹاؤن ضلع کراچی میں رضی الدین صاحب ابن محمد حسین مختار صاحب عمر تقریباً27سال ساکن اوگرور کالونی اورنگی ٹاؤن کراچی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق مکرم رضی الدین صاحب جرابیں بنانے والی ایک فیکٹری میں ملازم تھے اور دوپہر تقریباً اڑھائی بجے اپنے گھر سے کام پر جانے کے لیے نکلے ،ان کی اہلیہ اور بھتیجا ہمراہ تھے۔وہ ابھی گھر سے کچھ فاصلے پر ہی پہنچے تھے کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کردی ۔ایک گولی رضی الدین صاحب کی گردن میں لگی جس نے سانس کی نالی کو زخمی کردیا۔آپ کا بھتیجا واقعہ کی اطلاع دینے گھر چلا گیا جبکہ آپ کی اہلیہ انہیں فوری عباسی شہید ہسپتال لے گئیں،جہاں ڈاکٹرزنے ہر ممکن کوشش کی لیکن مکرم رضی الدین صاحب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔رضی الدین صاحب جماعت احمدیہ کراچی کے ایک فعال ممبر تھے۔اپنی بیوی،بچہ کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کی فیملی اور والدین کے کفیل تھے۔انہوں نے لواحقین میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی عمر ایک سال، والدین، ایک بھائی اور تین بہنیں سوگوار چھوڑی ہیں۔ان کی میت تدفین کے لئے ربوہ لائی جائے گی۔
اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ گذشتہ سال 7احمدیوں کو عقیدہ کے اختلاف کی بنا پر قتل کیا گیا جس میں سے 6افرا د کراچی میں قتل کئے گئے۔انہوں نے اورنگی ٹاؤن ہی میں کیانی خاندان کے تین افراد کو مذہبی منافرت کا نشانہ بنائے جانے کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ایک ہی علاقے میں احمدیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس علاقے میں کوئی گروہ منظم انداز میں احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہا ہے ترجمان نے کہا کہ یہ قربانیاں ہمارے حوصلوں کو بلند کرنے کرنے والی ہیں ۔دشمن دہشت گردی کر کے ہمیں کمزور نہیں کر سکتا نہ ہی ظلم وستم کے یہ افسوسناک واقعات کسی احمدی کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے مقدس نام پر منعقد کئے جانے والے اجتماعات میں احمدیوں کے واجب القتل ہونے کے فتوے کھلے عام دئے جا رہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ مخالفین کثیر تعداد میں ایسا نفرت انگیز لٹریچر شائع کر کے عوام میں تقسیم کر رہے ہیں جس میں احمدیوں کے بائیکاٹ سے لے کر قتل کرنے تک کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ لیکن متعلقہ حکومتی ادارے اس ضمن میں بے حسی اور لا پرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی بنا پر معصوم احمدی اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سفاک قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔###

  بشیر احمد کیانی اورنگی ٹاؤن میں سفاک قاتلوں کا نشانہ بن گئے

بشیر احمد کیانی اورنگی ٹاؤن میں سفاک قاتلوں کا نشانہ بن گئے

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز

عقیدے کے اختلاف کی بنا پرایک ہی گھر کے تیسرے فرد ٹارگٹ کلنگ کا شکار

داماد اوربیٹے کے بعد 70سالہ بزرگ بشیر احمد کیانی اورنگی ٹاؤن میں سفاک قاتلوں کا نشانہ بن گئے

کراچی میں ایک ہی علاقے میں معصوم احمدیوں کا قتل سوالیہ نشان ہے :ترجمان جماعت احمدیہ چناب نگرربوہ

(پ ر) کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پر70سالہ بزرگ بشیر احمد کیانی کو اورنگی ٹاؤن میں قتل کر دیا گیا ۔تفصیلات0 کے مطابق بشیراحمد کیانی اور ایک احمدی بچہ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے آرہے تھے کہ احمدیہ عبادت گاہ ’’بیت الحمد‘‘ کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی ۔ بشیر احمد صاحب کو کنپٹی پر ایک اور سینے پر دو گولیاں لگیں۔جبکہ بچہ کی پنڈلی میں گولی لگی۔دونوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ۔زخموں کی تاب نہ لا کربشیر احمد کیانی صاحب جاں بحق ہو گئے۔جبکہ بچے کی حالت بہتر ہے ۔ انہوں نے بیوہ اور پانچ بچوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ ان کی میت تدفین کے لئے ربوہ لائی گئی جہاں شہریوں کی کثیر تعدادنے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ مرحوم کی علاقے میں اچھی شہرت تھی اور انکی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔انہیں صرف احمدی ہونے کی بنا پر ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ بشیر احمد کیانی صاحب کے داماد ظہور احمدکیانی کو 21اگست کو جبکہ بیٹے اعجاز احمد کیانی صاحب کو 18ستمبر کو ا ورنگی ٹاؤن میں ہی ا حمدی ہونے کی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔ اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ہی علاقے میں گھر کے تیسرے فرد کو احمدی ہونے پر قتل کیا گیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس علاقے میں کوئی گروہ منظم انداز میں احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ قربانیاں ہمارے حوصلوں کو بلند کرنے کرنے والی ہیں ۔دشمن ہمارے ایمان کو کمزور نہیں کر سکتا نہ ہی دہشتگردی کر کے کسی احمدی کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے مقدس نام پر منعقد کئے جانے والے اجتماعات میں احمدیوں کے واجب القتل ہونے کے فتوے کھلے عام دئے جا رہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ مخالفین کثیر تعداد میں ایسا نفرت انگیز لٹریچر شائع کر کے عوام میں تقسیم کر رہے ہیں جس میں احمدیوں کے بائیکاٹ سے لے کر قتل کرنے تک کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ لیکن متعلقہ حکومتی ادارے اس ضمن میں بے حسی اور لا پرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی بنا پر معصوم احمدی اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سفاک قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے

کراچی میں جواں سال احمدی اعجاز احمد کیانی مذہبی منافرت کی بناپر زندگی سے محروم کر دئے گئے۔

کراچی میں جواں سال احمدی اعجاز احمد کیانی مذہبی منافرت کی بناپر زندگی سے محروم کر دئے گئے۔

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
کراچی میں جواں سال احمدی اعجاز احمد کیانی مذہبی منافرت کی بناپر زندگی سے محروم کر دئے گئے۔
ایک ماہ میں چاراحمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ۔احمدیوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد میں تیزی آگئی :ترجمان جماعت احمدیہ 
چناب نگر(پ ر)آج مؤرخہ18؍ستمبر2013ء کو صبح 7:30بجے کراچی کے ایک نوجوان احمدی اعجاز احمد کیانی ولد بشیراحمد کیانی صاحب ساکن اورنگی ٹاؤن کراچی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق اعجاز احمد کیانی صاحب آج صبح 7:30بجے اپنے گھر واقع اورنگی ٹاؤن کراچی سے کام پر جانے کیلئے نکلے۔گھر سے کچھ ہی دور گئے تھے کے سامنے سے آنے والے دو موٹرسائیکل سوار وں نے ان پر فائرنگ شروع کردی۔شہید مرحوم کو 6گولیاں لگیں۔ ایک گولی بائیں ہاتھ پر لگی جبکہ سینے میں 4گولیاں لگیں۔نیچے گرے تو ایک گولی سر میں بھی لگی۔جس سے وہ موقع پرہی جاں بحق ہوگئے۔ان کی میت تدفین کے لئے ربوہ لائی جائے گی۔
اعجاز احمد کیانی کی عمر 27سال تھی اوروہ آرمی میں اٹامک انرجی ڈیپارٹمنٹ میں بطور ڈرائیور ڈیوٹی کرتے تھے۔ مرحوم نے پسماندگان میں والدین کے علاوہ اہلیہ محترمہ ،ایک بیٹی بعمر5سال اور ایک بیٹا بعمر2سال کو سوگوار چھوڑا ہے۔
اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں ایک عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کے افسوسناک واقعات ہو رہے ہیں اور حکومت ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشہ ایک ماہ میں کراچی میں چار احمدیوں کو عقیدے کے اختلاف کی بنا پر قتل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معصوم احمدیوں کے قتل سے ہمیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے ۔ہر شہادت کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے حوصلے بلند ہیں اور دشمن غلط فہمی میں ہے کہ اپنی سفاکانہ کارروائیوں سے وہ کسی احمدی کا راہ ایمان میں قدم ڈگمگا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری کو پہچانے اورپاکستانی معاشرے میں احمدیوں کے خلاف پھیلائے جانے والے نفرت انگیز لٹریچر کی اشاعت کو روکے جن میں کھلے عام احمدیوں کے قتل کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ گذشتہ دنوں ملک کے طول وعرض میں ختم نبوت کے مقدس نام پر ایسے اجتماعات منعقد کئے گئے جن میں صرف احمدیوں کے خلاف نفرت و تشدد کی تلقین کی گئی اور کئی جگہوں پر حاضرین کو اشتعال دلاتے ہوئے معصوم احمدیوں کے واجب القتل ہونے کے فتوے دئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے عمل پر جس طرح انتظامیہ نے اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ آج وطن عزیز میں مسلمان مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی آگے بڑھ کر اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے ۔

آج اورنگی ٹاؤن کراچی میں عقیدے کے اختلاف کی بنا پر نوجوان احمدی اعجاز احمد قتل

آج اورنگی ٹاؤن کراچی میں عقیدے کے اختلاف کی بنا پر نوجوان احمدی اعجاز احمد قتل

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
آج اورنگی ٹاؤن کراچی میں عقیدے کے اختلاف کی بنا پر نوجوان احمدی اعجاز احمد قتل 
دو ہفتوں میں تین احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ ،تشدد کی بڑی لہر کا پتہ دے رہی ہے :ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگرربوہ(پ ر) کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پر ایک نوجوان احمدی اعجاز احمد بعمر36 سال کو اورنگی ٹاؤن میں قتل کر دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق اعجاز احمد ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے ۔اپنے معمول کے مطابق وہ آج پونے گیارہ بجے فیکٹری جانے کیلئے گھر سے نکلے تھے اور ابھی کچھ فاصلہ طے کیا تھا کہ راستے میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے انکے قریب آکر ان کے بائیں کان پر فائرکر دیاجو سر سے آر پار ہو گیا ۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہو گئے۔
انہوں نے لواحقین میں اہلیہ اور3بچوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔مرحوم کی علاقے میں اچھی شہرت تھی اور انکی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔انہیں صرف احمدی ہونے کی بنا پر ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ اعجاز احمد کے بہنوئی نواز احمد صاحب کو بھی ا ورنگی ٹاؤن میں ہی گذشتہ سال 11ستمبر کو احمدی ہونے کی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔
اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ میں اچانک تیزی تشدد کی بڑی لہر کا پتہ دے رہی ہے۔حکومت ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احمدی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو ہفتوں میں یہ تیسرے احمدی ہیں جنہیں عقیدے کے اختلاف کی بنا پر قتل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معصوم احمدیوں کے قتل سے ہمیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے ۔ہر شہادت کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے حوصلے بلند ہیں اور دشمن غلط فہمی میں ہے کہ اپنی سفاکانہ کارروائیوں سے وہ کسی احمدی کا راہ ایمان میں قدم ڈگمگا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری کو پہچانے اورپاکستانی معاشرے میں احمدیوں کے خلاف پھیلائے جانے والے نفرت انگیز لٹریچر کی اشاعت کو روکے جن میں کھلے عام احمدیوں کے قتل کی ترغیب دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دنوں ختم نبوت کے مقدس نام پر ملک بھر میں جماعت احمدیہ کے مخالفین اجتماعات منعقد کر رہے ہیں اور عامتہ الناس میں احمدیوں کے خلاف نفرت و تشدد کی تلقین کر رہے ہیں جس کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پر احمدی ڈاکٹر سید طاہر احمد قتل

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پرایک احمدی ڈاکٹر سید طاہر احمد اپنے کلینک میں قتل۔
دس دنوں میں 2احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ۔احمدیوں کے مخالفین ایک بار پھر متحرک ہو گئے :ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگرربوہ(پ ر) کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پر ایک احمدی ہومیوڈاکٹر سید طاہر احمد بعمر55 سال کو انکے کلینک پر لانڈھی میں قتل کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سید طاہر احمد صاحب پاکستان نیشنل ریفائنری میں کام کرتے تھے اور اسکے ساتھ ساتھ وہ اپنے گھر میں قائم کلینک میں مریضوں کا ہومیو پیتھک علاج کرتے تھے۔گذشتہ روز31اگست کو رات 8بجیحسب معمول اپنے کلینک میں موجود تھے۔قاتل مریض کے روپ میں آئے اور انہوں نے ڈاکٹر سید طاہر احمد پر اس وقت فائرنگ کر دی جب وہ دیگر مریض دیکھ رہے تھے۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہو گئے۔
انہوں نے لواحقین میں اہلیہ محترمہ اور5بچوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔مرحوم کی علاقے میں اچھی شہرت تھی اور انکی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔انہیں صرف احمدی ہونے کی بنا پر ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔
اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں ایک عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کے افسوسناک واقعات ہو رہے ہیں اور حکومت ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ 10دنوں میں یہ دوسرے احمدی ہیں جنہیں عقیدے کے اختلاف کی بنا پر قتل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معصوم احمدیوں کے قتل سے ہمیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے ۔ہر شہادت کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے حوصلے بلند ہیں اور دشمن غلط فہمی میں ہے کہ اپنی سفاکانہ کارروائیوں سے وہ کسی احمدی کا راہ ایمان میں قدم ڈگمگا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری کو پہچانے اورپاکستانی معاشرے میں احمدیوں کے خلاف پھیلائے جانے والے نفرت انگیز لٹریچر کی اشاعت کو روکے جن میں کھلے عام احمدیوں کے قتل کی ترغیب دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے عمل پر جس طرح انتظامیہ نے اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ آج وطن عزیز میں مسلمان مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی آگے بڑھ کر اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے

کراچی میں ایک احمدی ظہور احمد کیانی مذہبی منافرت کی بنا پر ٹارگٹ کلنگ کا شکار

کراچی میں ایک احمدی ظہور احمد کیانی مذہبی منافرت کی بنا پر ٹارگٹ کلنگ کا شکار

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
کراچی میں ایک احمدی ظہور احمد کیانی مذہبی منافرت کی بنا پر ٹارگٹ کلنگ کا شکار۔گھر کے باہر نشانہ بنا یا گیا
ظلم و بربریت کا خونی کھیل روکنے کے لئے ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے:ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگرربوہ(پ ر) کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پر ایک احمدی ظہور احمد کیانی بعمر46سال ساکن مجاہد کالونی میٹرول اورنگی ٹاؤن ضلع کراچی کو آج صبح 11:30بجے نامعلوم دوموٹرسائیکل سواروں نے گھر کے باہرآکر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق آج صبح 11:30بجے دو نامعلوم موٹرسائیکل سوار ظہور احمد کیانی صاحب کے گھر آئے۔ ظہور احمدکیانی اپنے ہمسایہ جناب نور الواحد صاحب کے ساتھ گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے ۔ظہور صاحب کو دیکھتے ہی اُن افراد نے ان پر فائرنگ کر دی ۔جس کی وجہ سے تقریباً12گولیاں ان کو لگیں اور مکرم ظہور احمد صاحب موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔اِن کے ہمسایہ نور الواحدصاحب موٹرسائیکل سواروں کے پیچھے بھاگے۔جس پر نامعلوم قاتلوں نے اُن پر بھی فائرنگ کر دی۔نور الواحد صاحب کو تقریباً16 گولیاں لگیں اور وہ بھی موقع پر وفات پاگئے۔واضح رہے کہ جناب نور الواحد صاحب کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں تھا۔
ظہور احمد کیانی صاحب کسٹم میں ملازم تھے ، انہوں نے لواحقین میں اہلیہ محترمہ اور 7بچوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔مرحوم کی علاقے میں اچھی شہرت تھی اور انکی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔انہیں صرف احمدی ہونے کی بنا پر ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔ان کی میت تدفین کے لئے ربوہ لائی جا ئے گی۔
اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں ایک عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کے افسوسناک واقعات ہو رہے ہیں اور حکومت ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بلاامتیاز عقیدہ ،رنگ ونسل یکساں تحفظ فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ احمدی محب وطن اور پر امن شہری ہیں اور ہمیشہ کی طرح ہم صبر سے کام لیں گے ۔ہمارا معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہمار ا رب ضرور انصاف کرے گا۔تاہم حکومت کو چاہئے کہ وہ احمدیوں کے تحفظ کے ضمن میں اپنی ذمہ داری ادا کرے ۔انہوں نے نور الواحد صاحب کی جواں مردی اور بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام افراد معاشرہ آپس میں یکجہتی اور اخوت کا مظاہرہ کریں تو مذہب کے حسین نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو با آسانی شکست دی جا سکتی ہے