Sadr Anjuman Ahmadiyya Pakistan

ٹنڈہ الہہ یار میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا جھوٹا اور شر انگیز الزام لگا کر جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ پر حملہ قابل مذمت ہے۔

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
ٹنڈہ الہہ یار میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا جھوٹا اور شر انگیز الزام لگا کر جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ پر حملہ قابل مذمت ہے۔
کوئی احمدی قران پاک کی بے حرمتی کا تصور بھی نہیں کر سکتا:ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگر (ربوہ): جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے ٹنڈو الہہ یار میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا جھوٹا اور شر انگیز الزام لگا کر انتہاپسند عناصر کی احمدیہ عبادت گاہ میں زبر دستی گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی شر انگیز اور بے بنیاد الزام ہے ۔کوئی بھی احمدی قرآن پاک کی بے حرمتی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ہر احمدی کے لئے قرآن حکیم سب سے مقدس کتاب ہے جو پیارے نبی حضرت محمدﷺ پر نازل ہوئی ۔ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عز ت پائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ روز شر پسند عناصر نے احمدیہ عبادت گاہ پر پتھراؤ کیا جس پر طاہر احمد خالدنے ان کو اس کام سے منع کیا تو یہ لوگ منظم ہو کر احمدیہ عبادت گاہ پر حملہ آور ہو گئے اور زبردستی درواز ہ توڑ دیااورطاہر احمد خالد کو تشدد کانشانہ بنایا۔پولیس نے موقع پر پہنچ کر انہیں حفاظتی تحویل میں لے لیا۔جس پر شر پسند عناصر نے پولیس پر بھی پتھراؤ کیا۔بعد ازاں پولیس نے مذہبی انتہا پسندوں کے دباؤ میں آکر طاہر احمدخالد کے خلاف توہین قران کے بے بنیاد الزام کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کر لیا۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے اس واقعہ پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ا نتہائی افسوسناک ہے اور دن بدن انتہاپسندعناصر کی پاکستانی سماج پر مضبوط ہوئی گرفت کا آئینہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بالعموم اور سندھ میں بالخصوص ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں جن میں مذہبی انتہا پسند عناصر دیگر مسالک کی عبادت گاہوں کو ایک منصوبہ بندی کے ساتھ نشانہ بنا رہے ہیں انہوں نے اس ضمن میں لاڑکانہ میں ہندووں کے مندر کی توڑ پھوڑ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اب پاکستان میں انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں نہ تو مسلمان محفوظ ہیں اور نہ ہی غیر مسلم ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی منصفانہ تفتیش کی جائے اور ذمہ داران کو کڑی سزا دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طاہر احمد خالد کے خلاف بے بنیاد مقدمہ کو خارج کیا جائے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔ ###

فیصل آباد کے گاؤں 96گ ب تحصیل جڑانوالہ میں پولیس نے احمدیوں کی قبروں کے کتبوں سے کلمہ طیبہ شہید کر دیا

فیصل آباد کے گاؤں 96گ ب تحصیل جڑانوالہ میں پولیس نے احمدیوں کی قبروں کے کتبوں سے کلمہ طیبہ شہید کر دیا

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
فیصل آباد کے گاؤں 96گ ب تحصیل جڑانوالہ میں پولیس نے احمدیوں کی قبروں کے کتبوں سے کلمہ طیبہ شہید کر دیا
واقعہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شرف انسانیت کے خلاف ہے۔مذمت کرتے ہیں:ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگر (ربوہ): (پ ر) جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے پولیس کی جانب سے فیصل آ باد کے گاؤں 96گ ب تحصیل جڑانوالہ میں احمدیوں کی قبروں کے کتبوں سے کلمہ طیبہ شہید کرنے کو انتہائی قابل افسوس قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق 96گ ب تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد میں ایک معاند احمدیت نے پولیس کو درخواست دی تھی کہ گاؤں کے قبرستان میں احمدیوں کی قبروں کے کتبوں پر ایسے کلمات لکھے ہیں جن سے اس کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔اس پر مقامی پولیس نے جماعت احمدیہ کے نمائندوں کو تھانے بلا کر ان کتبوں پر تحریرکلمہ طیبہ خودمٹانے کے لئے دباؤ ڈالا تھا جس پر احمدیوں نے موقف اختیار کیا کہ ہم کسی صورت کلمہ طیبہ کو خود نہیں مٹائیں گے اور نہ کسی اور کو یہ مکروہ کام کرنے کی اجازت دیں گے۔احمدی تو کلمہ طیبہ لکھنے والے ہیں ہم ہر گزکلمہ نہیں مٹائیں گے۔احمدیوں کے اس موقف کے بعد9مارچ کو پولیس کے چند اہلکاروں نے قبرستان میں داخل ہوئے اور انہوں نے7قبروں سے کلمہ طیبہ شہید کردیا۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے اس افسوسناک واقعہ پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شرف انسانیت کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ سرکاری انتظامیہ جس کا کام معاشرے میں امن قائم کرنا اور تمام افراد سے یکساں سلوک کرنا ہے وہ مکمل طور پر اس وقت جماعت احمدیہ کے معاندین کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ۔جو کہ سراسر غیر قانونی اورغیراخلاقی حرکت ہے۔انہوں نے اس ضمن میں سپریم کورٹ کے 4نومبر1992کے حکم کا حوالہ دیا جس کے مطابق احمدی بسم اللہ اور اس جیسے دیگرکلمات استعمال کرنے کا قانونی حق رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ ان کی ذندگیوں میں تو امتیازی سلوک مسلسل جاری ہے لیکن دنیا سے گذر جانے کے بعد بھی اس ظالمانہ سلوک کو جاری رکھنے والے یہ عناصر مت بھولیں کہ انہیں ایک دن خدا کی عدالت میں حاضر ہونا ہے۔###

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز

کراچی میں احمدیوں کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ۔27سالہ رضی الدین اورنگی ٹاؤن میں قتل

کراچی میں ایک ہی علاقے میں معصوم احمدیوں کا قتل سوالیہ نشان ہے :ترجمان جماعت احمدیہ

چناب نگرربوہ(پ ر) گذشتہ روز8؍فروری 2014ء بروز ہفتہ دوپہر تقریباً 2:30بجے اورنگی ٹاؤن ضلع کراچی میں رضی الدین صاحب ابن محمد حسین مختار صاحب عمر تقریباً27سال ساکن اوگرور کالونی اورنگی ٹاؤن کراچی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق مکرم رضی الدین صاحب جرابیں بنانے والی ایک فیکٹری میں ملازم تھے اور دوپہر تقریباً اڑھائی بجے اپنے گھر سے کام پر جانے کے لیے نکلے ،ان کی اہلیہ اور بھتیجا ہمراہ تھے۔وہ ابھی گھر سے کچھ فاصلے پر ہی پہنچے تھے کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کردی ۔ایک گولی رضی الدین صاحب کی گردن میں لگی جس نے سانس کی نالی کو زخمی کردیا۔آپ کا بھتیجا واقعہ کی اطلاع دینے گھر چلا گیا جبکہ آپ کی اہلیہ انہیں فوری عباسی شہید ہسپتال لے گئیں،جہاں ڈاکٹرزنے ہر ممکن کوشش کی لیکن مکرم رضی الدین صاحب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔رضی الدین صاحب جماعت احمدیہ کراچی کے ایک فعال ممبر تھے۔اپنی بیوی،بچہ کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کی فیملی اور والدین کے کفیل تھے۔انہوں نے لواحقین میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی عمر ایک سال، والدین، ایک بھائی اور تین بہنیں سوگوار چھوڑی ہیں۔ان کی میت تدفین کے لئے ربوہ لائی جائے گی۔
اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ گذشتہ سال 7احمدیوں کو عقیدہ کے اختلاف کی بنا پر قتل کیا گیا جس میں سے 6افرا د کراچی میں قتل کئے گئے۔انہوں نے اورنگی ٹاؤن ہی میں کیانی خاندان کے تین افراد کو مذہبی منافرت کا نشانہ بنائے جانے کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ایک ہی علاقے میں احمدیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس علاقے میں کوئی گروہ منظم انداز میں احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہا ہے ترجمان نے کہا کہ یہ قربانیاں ہمارے حوصلوں کو بلند کرنے کرنے والی ہیں ۔دشمن دہشت گردی کر کے ہمیں کمزور نہیں کر سکتا نہ ہی ظلم وستم کے یہ افسوسناک واقعات کسی احمدی کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے مقدس نام پر منعقد کئے جانے والے اجتماعات میں احمدیوں کے واجب القتل ہونے کے فتوے کھلے عام دئے جا رہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ مخالفین کثیر تعداد میں ایسا نفرت انگیز لٹریچر شائع کر کے عوام میں تقسیم کر رہے ہیں جس میں احمدیوں کے بائیکاٹ سے لے کر قتل کرنے تک کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ لیکن متعلقہ حکومتی ادارے اس ضمن میں بے حسی اور لا پرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی بنا پر معصوم احمدی اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سفاک قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔###

  بشیر احمد کیانی اورنگی ٹاؤن میں سفاک قاتلوں کا نشانہ بن گئے

بشیر احمد کیانی اورنگی ٹاؤن میں سفاک قاتلوں کا نشانہ بن گئے

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز

عقیدے کے اختلاف کی بنا پرایک ہی گھر کے تیسرے فرد ٹارگٹ کلنگ کا شکار

داماد اوربیٹے کے بعد 70سالہ بزرگ بشیر احمد کیانی اورنگی ٹاؤن میں سفاک قاتلوں کا نشانہ بن گئے

کراچی میں ایک ہی علاقے میں معصوم احمدیوں کا قتل سوالیہ نشان ہے :ترجمان جماعت احمدیہ چناب نگرربوہ

(پ ر) کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پر70سالہ بزرگ بشیر احمد کیانی کو اورنگی ٹاؤن میں قتل کر دیا گیا ۔تفصیلات0 کے مطابق بشیراحمد کیانی اور ایک احمدی بچہ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے آرہے تھے کہ احمدیہ عبادت گاہ ’’بیت الحمد‘‘ کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی ۔ بشیر احمد صاحب کو کنپٹی پر ایک اور سینے پر دو گولیاں لگیں۔جبکہ بچہ کی پنڈلی میں گولی لگی۔دونوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ۔زخموں کی تاب نہ لا کربشیر احمد کیانی صاحب جاں بحق ہو گئے۔جبکہ بچے کی حالت بہتر ہے ۔ انہوں نے بیوہ اور پانچ بچوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ ان کی میت تدفین کے لئے ربوہ لائی گئی جہاں شہریوں کی کثیر تعدادنے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ مرحوم کی علاقے میں اچھی شہرت تھی اور انکی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔انہیں صرف احمدی ہونے کی بنا پر ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ بشیر احمد کیانی صاحب کے داماد ظہور احمدکیانی کو 21اگست کو جبکہ بیٹے اعجاز احمد کیانی صاحب کو 18ستمبر کو ا ورنگی ٹاؤن میں ہی ا حمدی ہونے کی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔ اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ہی علاقے میں گھر کے تیسرے فرد کو احمدی ہونے پر قتل کیا گیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس علاقے میں کوئی گروہ منظم انداز میں احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ قربانیاں ہمارے حوصلوں کو بلند کرنے کرنے والی ہیں ۔دشمن ہمارے ایمان کو کمزور نہیں کر سکتا نہ ہی دہشتگردی کر کے کسی احمدی کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے مقدس نام پر منعقد کئے جانے والے اجتماعات میں احمدیوں کے واجب القتل ہونے کے فتوے کھلے عام دئے جا رہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ مخالفین کثیر تعداد میں ایسا نفرت انگیز لٹریچر شائع کر کے عوام میں تقسیم کر رہے ہیں جس میں احمدیوں کے بائیکاٹ سے لے کر قتل کرنے تک کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ لیکن متعلقہ حکومتی ادارے اس ضمن میں بے حسی اور لا پرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی بنا پر معصوم احمدی اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سفاک قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے

کراچی میں جواں سال احمدی اعجاز احمد کیانی مذہبی منافرت کی بناپر زندگی سے محروم کر دئے گئے۔

کراچی میں جواں سال احمدی اعجاز احمد کیانی مذہبی منافرت کی بناپر زندگی سے محروم کر دئے گئے۔

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
کراچی میں جواں سال احمدی اعجاز احمد کیانی مذہبی منافرت کی بناپر زندگی سے محروم کر دئے گئے۔
ایک ماہ میں چاراحمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ۔احمدیوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد میں تیزی آگئی :ترجمان جماعت احمدیہ 
چناب نگر(پ ر)آج مؤرخہ18؍ستمبر2013ء کو صبح 7:30بجے کراچی کے ایک نوجوان احمدی اعجاز احمد کیانی ولد بشیراحمد کیانی صاحب ساکن اورنگی ٹاؤن کراچی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق اعجاز احمد کیانی صاحب آج صبح 7:30بجے اپنے گھر واقع اورنگی ٹاؤن کراچی سے کام پر جانے کیلئے نکلے۔گھر سے کچھ ہی دور گئے تھے کے سامنے سے آنے والے دو موٹرسائیکل سوار وں نے ان پر فائرنگ شروع کردی۔شہید مرحوم کو 6گولیاں لگیں۔ ایک گولی بائیں ہاتھ پر لگی جبکہ سینے میں 4گولیاں لگیں۔نیچے گرے تو ایک گولی سر میں بھی لگی۔جس سے وہ موقع پرہی جاں بحق ہوگئے۔ان کی میت تدفین کے لئے ربوہ لائی جائے گی۔
اعجاز احمد کیانی کی عمر 27سال تھی اوروہ آرمی میں اٹامک انرجی ڈیپارٹمنٹ میں بطور ڈرائیور ڈیوٹی کرتے تھے۔ مرحوم نے پسماندگان میں والدین کے علاوہ اہلیہ محترمہ ،ایک بیٹی بعمر5سال اور ایک بیٹا بعمر2سال کو سوگوار چھوڑا ہے۔
اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں ایک عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کے افسوسناک واقعات ہو رہے ہیں اور حکومت ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشہ ایک ماہ میں کراچی میں چار احمدیوں کو عقیدے کے اختلاف کی بنا پر قتل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معصوم احمدیوں کے قتل سے ہمیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے ۔ہر شہادت کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے حوصلے بلند ہیں اور دشمن غلط فہمی میں ہے کہ اپنی سفاکانہ کارروائیوں سے وہ کسی احمدی کا راہ ایمان میں قدم ڈگمگا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری کو پہچانے اورپاکستانی معاشرے میں احمدیوں کے خلاف پھیلائے جانے والے نفرت انگیز لٹریچر کی اشاعت کو روکے جن میں کھلے عام احمدیوں کے قتل کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ گذشتہ دنوں ملک کے طول وعرض میں ختم نبوت کے مقدس نام پر ایسے اجتماعات منعقد کئے گئے جن میں صرف احمدیوں کے خلاف نفرت و تشدد کی تلقین کی گئی اور کئی جگہوں پر حاضرین کو اشتعال دلاتے ہوئے معصوم احمدیوں کے واجب القتل ہونے کے فتوے دئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے عمل پر جس طرح انتظامیہ نے اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ آج وطن عزیز میں مسلمان مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی آگے بڑھ کر اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے ۔

آج اورنگی ٹاؤن کراچی میں عقیدے کے اختلاف کی بنا پر نوجوان احمدی اعجاز احمد قتل

آج اورنگی ٹاؤن کراچی میں عقیدے کے اختلاف کی بنا پر نوجوان احمدی اعجاز احمد قتل

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
آج اورنگی ٹاؤن کراچی میں عقیدے کے اختلاف کی بنا پر نوجوان احمدی اعجاز احمد قتل 
دو ہفتوں میں تین احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ ،تشدد کی بڑی لہر کا پتہ دے رہی ہے :ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگرربوہ(پ ر) کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پر ایک نوجوان احمدی اعجاز احمد بعمر36 سال کو اورنگی ٹاؤن میں قتل کر دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق اعجاز احمد ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے ۔اپنے معمول کے مطابق وہ آج پونے گیارہ بجے فیکٹری جانے کیلئے گھر سے نکلے تھے اور ابھی کچھ فاصلہ طے کیا تھا کہ راستے میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے انکے قریب آکر ان کے بائیں کان پر فائرکر دیاجو سر سے آر پار ہو گیا ۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہو گئے۔
انہوں نے لواحقین میں اہلیہ اور3بچوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔مرحوم کی علاقے میں اچھی شہرت تھی اور انکی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔انہیں صرف احمدی ہونے کی بنا پر ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ اعجاز احمد کے بہنوئی نواز احمد صاحب کو بھی ا ورنگی ٹاؤن میں ہی گذشتہ سال 11ستمبر کو احمدی ہونے کی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔
اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ میں اچانک تیزی تشدد کی بڑی لہر کا پتہ دے رہی ہے۔حکومت ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احمدی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو ہفتوں میں یہ تیسرے احمدی ہیں جنہیں عقیدے کے اختلاف کی بنا پر قتل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معصوم احمدیوں کے قتل سے ہمیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے ۔ہر شہادت کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے حوصلے بلند ہیں اور دشمن غلط فہمی میں ہے کہ اپنی سفاکانہ کارروائیوں سے وہ کسی احمدی کا راہ ایمان میں قدم ڈگمگا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری کو پہچانے اورپاکستانی معاشرے میں احمدیوں کے خلاف پھیلائے جانے والے نفرت انگیز لٹریچر کی اشاعت کو روکے جن میں کھلے عام احمدیوں کے قتل کی ترغیب دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دنوں ختم نبوت کے مقدس نام پر ملک بھر میں جماعت احمدیہ کے مخالفین اجتماعات منعقد کر رہے ہیں اور عامتہ الناس میں احمدیوں کے خلاف نفرت و تشدد کی تلقین کر رہے ہیں جس کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پر احمدی ڈاکٹر سید طاہر احمد قتل

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پرایک احمدی ڈاکٹر سید طاہر احمد اپنے کلینک میں قتل۔
دس دنوں میں 2احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ۔احمدیوں کے مخالفین ایک بار پھر متحرک ہو گئے :ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگرربوہ(پ ر) کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پر ایک احمدی ہومیوڈاکٹر سید طاہر احمد بعمر55 سال کو انکے کلینک پر لانڈھی میں قتل کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سید طاہر احمد صاحب پاکستان نیشنل ریفائنری میں کام کرتے تھے اور اسکے ساتھ ساتھ وہ اپنے گھر میں قائم کلینک میں مریضوں کا ہومیو پیتھک علاج کرتے تھے۔گذشتہ روز31اگست کو رات 8بجیحسب معمول اپنے کلینک میں موجود تھے۔قاتل مریض کے روپ میں آئے اور انہوں نے ڈاکٹر سید طاہر احمد پر اس وقت فائرنگ کر دی جب وہ دیگر مریض دیکھ رہے تھے۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہو گئے۔
انہوں نے لواحقین میں اہلیہ محترمہ اور5بچوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔مرحوم کی علاقے میں اچھی شہرت تھی اور انکی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔انہیں صرف احمدی ہونے کی بنا پر ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔
اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں ایک عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کے افسوسناک واقعات ہو رہے ہیں اور حکومت ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ 10دنوں میں یہ دوسرے احمدی ہیں جنہیں عقیدے کے اختلاف کی بنا پر قتل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معصوم احمدیوں کے قتل سے ہمیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے ۔ہر شہادت کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے حوصلے بلند ہیں اور دشمن غلط فہمی میں ہے کہ اپنی سفاکانہ کارروائیوں سے وہ کسی احمدی کا راہ ایمان میں قدم ڈگمگا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری کو پہچانے اورپاکستانی معاشرے میں احمدیوں کے خلاف پھیلائے جانے والے نفرت انگیز لٹریچر کی اشاعت کو روکے جن میں کھلے عام احمدیوں کے قتل کی ترغیب دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے عمل پر جس طرح انتظامیہ نے اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ آج وطن عزیز میں مسلمان مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی آگے بڑھ کر اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے

کراچی میں ایک احمدی ظہور احمد کیانی مذہبی منافرت کی بنا پر ٹارگٹ کلنگ کا شکار

کراچی میں ایک احمدی ظہور احمد کیانی مذہبی منافرت کی بنا پر ٹارگٹ کلنگ کا شکار

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
کراچی میں ایک احمدی ظہور احمد کیانی مذہبی منافرت کی بنا پر ٹارگٹ کلنگ کا شکار۔گھر کے باہر نشانہ بنا یا گیا
ظلم و بربریت کا خونی کھیل روکنے کے لئے ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے:ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگرربوہ(پ ر) کراچی میں مذہبی منافرت کی بنا پر ایک احمدی ظہور احمد کیانی بعمر46سال ساکن مجاہد کالونی میٹرول اورنگی ٹاؤن ضلع کراچی کو آج صبح 11:30بجے نامعلوم دوموٹرسائیکل سواروں نے گھر کے باہرآکر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق آج صبح 11:30بجے دو نامعلوم موٹرسائیکل سوار ظہور احمد کیانی صاحب کے گھر آئے۔ ظہور احمدکیانی اپنے ہمسایہ جناب نور الواحد صاحب کے ساتھ گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے ۔ظہور صاحب کو دیکھتے ہی اُن افراد نے ان پر فائرنگ کر دی ۔جس کی وجہ سے تقریباً12گولیاں ان کو لگیں اور مکرم ظہور احمد صاحب موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔اِن کے ہمسایہ نور الواحدصاحب موٹرسائیکل سواروں کے پیچھے بھاگے۔جس پر نامعلوم قاتلوں نے اُن پر بھی فائرنگ کر دی۔نور الواحد صاحب کو تقریباً16 گولیاں لگیں اور وہ بھی موقع پر وفات پاگئے۔واضح رہے کہ جناب نور الواحد صاحب کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں تھا۔
ظہور احمد کیانی صاحب کسٹم میں ملازم تھے ، انہوں نے لواحقین میں اہلیہ محترمہ اور 7بچوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔مرحوم کی علاقے میں اچھی شہرت تھی اور انکی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔انہیں صرف احمدی ہونے کی بنا پر ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔ان کی میت تدفین کے لئے ربوہ لائی جا ئے گی۔
اس افسوسناک واقعہ پر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں ایک عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کے افسوسناک واقعات ہو رہے ہیں اور حکومت ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بلاامتیاز عقیدہ ،رنگ ونسل یکساں تحفظ فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ احمدی محب وطن اور پر امن شہری ہیں اور ہمیشہ کی طرح ہم صبر سے کام لیں گے ۔ہمارا معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہمار ا رب ضرور انصاف کرے گا۔تاہم حکومت کو چاہئے کہ وہ احمدیوں کے تحفظ کے ضمن میں اپنی ذمہ داری ادا کرے ۔انہوں نے نور الواحد صاحب کی جواں مردی اور بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام افراد معاشرہ آپس میں یکجہتی اور اخوت کا مظاہرہ کریں تو مذہب کے حسین نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو با آسانی شکست دی جا سکتی ہے

An Ahmadi youth Jawad Kareem murdered at home

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
لاہور:احمدیوں کے خلاف جاری نفرت انگیز مہم کا شاخسانہ ۔نوجوان احمدی جواد کریم گھر میں قتل
جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے:ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگر (ربوہ):(پ ر) لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں 32سالہ نوجوان احمدی جواد کریم کومذہبی منافرت کی بنا پر گھر میں گھس کر نامعلوم افراد نے قتل کردیا ۔تفصیلات کے مطابق جواد کریم ٹاؤن شپ میں رہائش پذیر تھے اور رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اپنی اہلیہ کو انکے کلینک سے لینے کے لئے اپنے دو منزلہ گھر کی بالائی منزل سے نیچے اتر رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر ان پر فائرنگ کر دی۔گولی انکے سینے میں لگی ۔انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہو گئے۔مرحوم ایک فعال احمدی تھے اور انکی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔انہیں کچھ عرصہ سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔مرحوم نے لواحقین میں والدین کے علاوہ اہلیہ اورتین بچوں کوسوگوار چھوڑا ہے۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان مکرم سلیم الدین صاحب نے لاہور میں ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعہ پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں ایک عرصے سے منظم انداز میں احمدیوں کے خلاف مہم چلائی جار ہی ہے جسکے تحت بلا وجہ بے بنیاد مقدمات بنائے جا رہے ہیں اور انتظامیہ بھی بھر پور رنگ میں ان شر پسند عناصر کا ساتھ دے رہی ہے۔تعصب پر مبنی اس مہم میں احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے اور ختم نبوت کے مقدس نام پر کانفرنس منعقد کر کے احمدیوں کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے۔ان اجتماعات میں حاضرین کو احمدیوں کے خلاف اشتعال دلایا جا رہا ہے اور معصوم احمدیوں پر حملوں کی ترغیب دی جاتی ہے۔اس کے علاوہ مختلف سڑکوں پر اور پبلک مقامات پر جماعت احمدیہ کے خلاف ایسے سٹکرز اور بینرز آویزاں کئے جاتے ہیں جن سے عامتہ الناس کو اشتعال دلایا جا تاہے۔اس کے ساتھ ساتھ سرکاری انتظامیہ بھی جماعت احمدیہ کے معاندین میں کھیل کر یہ ثابت کر چکی ہے کہ اسے احمدیوں کے جائز قانونی حقوق کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ احمدی اس ملک کے محب وطن شہری اور حکومت کی جانب سے تحفظ مہیا کئے جانے کے حقدار ہیں۔انہوں نے کہا ہم نے ہر واقعہ پر حکومت کے ذمہ داران کو اصلاح احوال کی طرف توجہ دلائی لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔احمدیوں کے خلاف واجب القتل ہونے کے فتووں کی کثیر تعداد میں اشاعت اور نفرت انگیز لٹریچر کی تقسیم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کو حکومت با آسانی روک سکتی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جائے۔###

Mr. Hamid Samee, a well-known Ahmadi chartered accountant murdered for his faith

Mr. Hamid Samee, a well-known Ahmadi chartered accountant murdered for his faith

Posted in Press | No Comments

پریس ریلیز
کراچی:گذشتہ روز ایک معروف احمدی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ حامدسمیع کو مذہبی منافرت کی بنا پر قتل کر دیا گیا۔
ٹارگٹ کلنگ کے کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ ہونے سے شر پسندوں کے حوصلے بڑھ چکے ہیں:ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگر (ربوہ):(پ ر)کراچی میں گذشتہ روز 11 جون 2013کو ایک احمدی چوہدری حامد سمیع کومذہبی منافرت کی بنا پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق مرحوم ایک چارٹرڈ اکاو نٹنٹ تھے۔ گذشتہ شام 6:30 پر آپ اپنی فرم واقع الحیات چیمبر ایم اے جناح روڈ سے گھر کے لئے بذریعہ کارروانہ ہوئے آپ کے ساتھ آپ کا ایک دوست اور فرم کا ایک ساتھی بھی گاڑی میں سوارتھے۔راستے میں نامعلوم حملہ آوروں نے جوکہ موٹر سائیکلوں پر سوار تھے آپ پر بے دریغ فائرنگ شروع کردی کم وبیش 6 گولیاں آپ کے ماتھے ، چہرے ، کمر اور ہاتھ پر لگی جس سے آپ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے ۔حامد سمیع کی عمر 48سال تھی۔ مرحوم نے لواحقین میں اہلیہ ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا ہے ۔ مرحوم کی بڑی بیٹی کی عمر 12 سال ، بیٹا 11 سال اور چھوٹی بیٹی کی عمر 9 سال ہے۔
حامدسمیع صاحب کی میت تدفین کے لئے ربوہ لائی جائے گی۔
جماعت احمدیہ پاکستان مکرم سلیم الدین صاحب نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعہ پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک تسلسل سے پروفیشنلز احمدیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کسی ایک مجرم کو بھی کیفر کردار تک نہیں پہنچایاگیا جس سے شر پسندعناصر کے حوصلے بڑھ چکے ہیں ۔ترجمان کے مطابق احمدیوں کے معاملے میں حکومت کی بے حسی واضح ہو چکی ہے اور احمدیوں کے جان ومال کو ارزاں کیا جا رہا ہے جبکہ احمدی اس ملک کے محب وطن شہری اور حکومت کی جانب سے تحفظ مہیا کئے جانے کے حقدار ہیں۔انہوں نے کہا ہم نے ہر واقعہ پر حکومت کے ذمہ داران کو اصلاح احوال کی طرف توجہ دلائی لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔احمدیوں کے خلاف واجب القتل ہونے کے فتووں کی کثیر تعداد میں اشاعت اور نفرت انگیز لٹریچر کی تقسیم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کو حکومت با آسانی روک سکتی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جائے۔###